Posts

Champions vs. Ordinary People - چیمپئنز اور عام لوگوں کے درمیان فرق

 چیمپئنز اور عام لوگوں کے درمیان بنیادی فرق ان کی سوچ اور عمل کے تسلسل میں ہے۔ چیمپئنز اپنی محنت اور پسینے کی قدر و قیمت اور اھمیت کو جان لیتے ہیں اور اپنے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے مستقل مزاجی سے کام کرتے ہیں۔ وہ یہ سمجھ جاتے ہیں کہ کامیابی کا راستہ پسینہ بہانے اور مسلسل محنت سے ہو کر گزرتا ہے۔ ان کے لیے محنت ایک عادت بن جاتی ہے، نہ کہ ایک وقتی عمل۔ عام لوگ، دوسری طرف، اکثر اس حقیقت کو مشکل سمجھتے ہیں اور محنت سے گریز کرتے ہیں۔ وہ شاذ و نادر ہی اپنی زندگی میں ایسی کوشش کرتے ہیں جو انہیں ان کے پوٹینشل سے آگاہ کر سکے۔ قدرت ہر انسان کو موقع دیتی ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو پہچانے اور ان کا استعمال کرے، لیکن یہ کام صرف تب ممکن ہے جب انسان فوکس کرے اور محنت کا عمل جاری رکھے۔ چیمپئنز اس کی اہمیت کو پہچان لیتے ہیں اور اس پر عمل پیرا ہو تے ہیں، جبکہ عام آدمی عموماً کوئی بہانہ بنا کر خود کو اس سے دور کر لیتا ہے۔ یہی وہ فرق ہے جو کامیاب اور ناکام لوگوں کو الگ کرتا ہے۔   کیا یہ حقیقیت ھے؟ جی ہاں، یہ ایک حقیقت پر مبنی مشاہدہ ہے۔ کامیابی اور ناکامی کے درمیان بنیادی فرق عام طور پر سوچ، ...

Dignity of Work - English and Urdu

A man came to the Prophet ﷺ, and his hands were rough and worn from manual labor. When the Prophet ﷺ noticed this, he took the man's hands, kissed them, and said: "These are hands that Allah and His Messenger love." Holy Prophet ﷺ said: "No one has ever eaten food better than that which he earned with his own hands. Indeed, the Prophet of Allah, Dawood (David), used to eat from what he earned with his own hands." The Prophet ﷺ emphasized the importance of self-reliance through labor instead of relying on others: "If one of you were to take a rope and carry a bundle of wood on his back and sell it, it would be better for him than begging from others, whether they give him something or not." The Prophet ﷺ praised those who worked hard and earned an honest living: "Allah loves a believer who is professional and excellent in their work." The Prophet ﷺ also highlighted how honest work is a means of expiation for sins: "Whoever works to provid...

Right Use of Focus

 جب ہم بچپن میں گر جاتے تھے تو ہمارے بزرگ بڑے پیار اور حکمت سے ہماری توجہ ہٹانے کے لیے ایک دلچسپ جملہ کہتے تھے: "جس چیونٹی پر تم گرے ہو، وہ تو بچی نہیں ہوگی۔ اس کا سارا آٹا تو ضائع ہو گیا ہوگا۔" یہ جملہ نہ صرف ہمارے درد کو بھلانے میں مددگار ہوتا تھا بلکہ ہمیں ہنسنے پر بھی مجبور کر دیتا تھا۔ جب میں ان باتوں پر غور کرتا ہوں تو یہ سوچنے پر مجبور ہوتا ہوں کہ دیہاتی علاقوں میں، جہاں زیادہ تعلیم نہیں تھی، کیسے لوگ اپنی سادہ حکمت سے ہماری توجہ درد سے ہٹا کر کسی ہلکے اور مثبت پہلو کی طرف لے جاتے تھے۔ یہ حکمت ان کے تجربے اور محبت سے بھرپور رویے کا حصہ تھی، جو ہمیں یہ سکھاتی تھی کہ چوٹ یا مشکل کے باوجود زندگی میں کچھ ہنسنے کے لمحے ڈھونڈے جا سکتے ہیں۔ لیکن جیسے جیسے ہم بڑے ہوتے ہیں، ہم اکثر اس سادہ لیکن گہرے اصول کو بھول جاتے ہیں۔ ہم اپنی توجہ مثبت پہلوؤں کی بجائے منفی پہلوؤں پر مرکوز کرنے کے عادی ہو جاتے ہیں۔ مشکلات، ناکامیوں، اور دوسروں کی خامیوں پر سوچنا ہماری عادت بن جاتی ہے، اور ہم اپنی سوچ کو غیر ضروری طور پر منفی رخ پر ڈال دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں اپنی اس سوچ کو شعوری کوشش ک...

Letter

جی ---- بھائی، السلام علیکم! میرا ----- بھائی کو ساتھ لے کر آنے کا مقصد یہ تھا کہ میں گزشتہ 24 سال سے کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں کسی ایسے ساتھی کی تلاش میں ہوں، جس کے ساتھ مل کر میں اپنی زندگی کے باقی دن انتہائی سرگرمی اور بھرپور طریقے سے گزار سکوں۔ اپنے طور پر مجھے محسوس ہوتا ہے کہ شاید کوئی کمی ہے جس کی وجہ سے مجھے ایک ساتھی کی ضرورت ہے، جو میری رہنمائی کرے اور مجھے یہ سمجھنے میں مدد دے کہ مجھے آگے کیا کرنا چاہیے۔ آپ میں وہ خصوصیات نظر آئیں جو اس سلسلے میں میری مدد کر سکتی ہیں، اور مجھے امید ہے کہ آپ میری رہنمائی کر سکیں گے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ہم مل کر کچھ کر سکتے ہیں یا آپ کی نظر میں کوئی ایسا موقع ہے جہاں میں انور کی طرح، جیسے آپ نے ان سے مل کر کچھ کیا تھا، بھرپور طریقے سے کام کر سکوں، تو میں اس پر آپ کی رہنمائی کا خیرمقدم کروں گا۔ اگر آپ ضروری سمجھیں تو میں آپ سے تفصیلی انٹرویو لینے کے لیے تیار ہوں۔ میں گزشتہ ایک سال سے اوبر چلا رہا ہوں، لیکن اس میں سیونگ بالکل بھی نہیں ہو رہی۔ ---- صاحب تو یہ کہتے ہیں کہ ہم مل کر کام کر لیتے ہیں، لیکن مجھے یہ لگتا ہے کہ یہ ان کے بس کی بات نہیں ہے...

Ambition kills laziness - بلند حوصلہ سستی کو ختم کر دیتا ہے۔

"Ambition" refers to a strong desire to achieve something, typically requiring determination and hard work. It is the driving force that motivates individuals to set and pursue goals, whether personal, professional, or societal. Ambition can manifest in various forms, such as striving for success, acquiring knowledge, achieving financial stability, or making a meaningful impact on the world. While ambition is often seen as a positive quality, as it fuels growth and progress, it can also have a downside if it becomes overly consuming or leads to unethical behavior. Striking a balance between ambition and contentment is essential for maintaining both personal well-being and integrity. "بلند حوصلہ" سے مراد کچھ حاصل کرنے کی ایک مضبوط خواہش ہے، جو عام طور پر عزم اور محنت کا تقاضا کرتی ہے۔ یہ وہ محرک قوت ہے جو افراد کو ذاتی، پیشہ ورانہ، یا سماجی مقاصد طے کرنے اور ان کے حصول کے لیے کوشش کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ بلند حوصلہ مختلف شکلوں میں ظاہر ہو سکتا ہے، جیسے کامیابی کی جستج...

Yateem‎ Miskeen

9 times Yateem‎  Surat Al-'An`ām 6:152 Surat Al-'Isrā'17:34 Surat Al-Kahf 18:82 Surat Al-'Insān 76:8 Surat Al-Fajr 89:17 Surat Al-Balad 90:15 Surat Ađ-Đuĥaá 93:6   93:9 Surat Al-Mā`ūn 107:2 11 times Miskeen Al-Baqara (The Cow) 2:184 Al-Isra (The Journey by Night) 17:26 Ar-Rum (The Romans) 30:38 Al-Mujadilah (The Disputation) 58:4 Al-Qalam (The Pen) 68:24 Al-Haqqah (The Reality) 69:34 Al-Muddaththir (The One Enveloped) 74:44 Al-Insan (Man) 76:8 Al-Fajr (The Dawn) 89:18 Al-Balad (The City) 90:16 Al-Ma'un (The Small Kindnesses) 107:3

24 Years in Toronto Canada

24 Years in Toronto Canada https://inspirationislike.blogspot.com/2024/09/t1.html